Home QUOTES

بدگمانی سوال بنیادی طور پر گُمان کی کتنی اقسام ہیں؟

0

بدگمانی سوال بنیادی طور پر گُمان کی کتنی اقسام ہیں؟

جواب بنیادی اعتبار سے گمان کی دواَقسام ہیں:(۱)حُسنِ ظن(۲)سوءِ ظن (یعنی بدگمانی)۔

سوال بدگمانی کی تعریف کیا ہے؟

جواب بدگمانی سے مراد یہ ہے کہ بلادلیل دوسرے کے بُرے ہونے کا دل سے پختہ یقین کرنا۔([1])

سوال بدگمانی کا شرعی حکم کیا ہے؟بدگمانی سوال بنیادی طور پر گُمان کی کتنی اقسام ہیں؟

جواب مسلمان کے ساتھ بدگمانی حرام ہے۔([2])

سوال قرآنِ پاک میں بکثرت گمان کی ممانعت کس مقام پر فرمائی گئی ہے؟

جواب کثرتِ گمان کی ممانعت قرآن پاک کے پارہ 26،سورۂ حجرات کی آیت نمبر 12میں فرمائی ہے جیسا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: (یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ) ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو بہت گمانوں سے بچو بیشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے۔

سوال ظن یعنی گمان کسے کہتے ہیں؟

جواب جس بات کی طرف نفس جھکے اور دل اس کی طرف مائل ہو اسے ظن (یعنی گمان) کہتے ہیں۔([3])

سوال بدگُمانی کے حرام ہونے کی صورتیں کونسی ہیں؟

جواب بدگمانی کے حرام ہونے کی دوصورتیں :(1)بدگمانی کودل پر جمالینا۔علامہ بدرالدین عینی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:گمان وہ حرام ہے جس پر اِصرار کیا جائے اور اُسے اپنے دل پر جمالیا جائے۔([4]) (2)بدگمانی کو زبان پر لے آنا یا اس کے تقاضے پر عمل کرلینا۔علامہ عبدالغنی نابلسی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:بدگمانی اس صورت میں حرام ہے جب اس کا اثراعضاء پر ظاہر ہو ،یوں کہ اس کے تقاضے پر عمل کیا جائے ۔([5])

سوال برے گمان کے دل میں جم جانے کی پہچان کیا ہے؟

جواب جس کے بارے میں اسے بدگمانی ہے اس کے متعلق پہلے جیسی قلبی کیفیت نہ

رہے، اس سے بہت نفرت کرنے لگے، اسے بوجھ تصور کرے ، اس کے احوال کی رعایت اور اس کی عزت کرنا چھوڑدے۔([6])

سوال بدگمانی سے کونسے باطنی اَمراض پیدا ہوتے ہیں؟

جواب بدگمانی سے بغض اور حسد جیسے باطنی اَمراض بھی پیدا ہوتے ہیں۔([7])

سوال