Home QUOTES

گھر کی خوشحالی میں شوہر کا کردار

0

گھر کی خوشحالی میں شوہر کا کردار

گھر کو امن اور خُوشیوں کا گہوارہ بنانے میں شوہر کاکردار بہت ہی اہم ہے۔ اگر وہ اپنی ذمّہ داریاں اچھے طریقے سے نہیں نبھائے گا اور بیوی کے حُقُوق پورے نہیں کرے گا تو اُس کے گھر میں خُوشیوں کے پھول کیسے کھلیں گے؟ اللہ رَبُّ العالمین جَـلَّ جَــلَالُهُ نے بیویوں کے حُقُوق سے مُتَعَلِّق قرآنِ مجید فُرقانِ حمید میں ارشاد فرمایا:

وَلَہُنَّ مِثْلُ الَّذِیۡ عَلَیۡہِنَّ بِالْمَعْرُوۡفِ۪(پ۲،البقرة:۲۲۸) ترجَمۂ کنز الایمان:اور عورتوں کا بھی حق ایسا ہی ہے جیسا ان پر ہے شرع کے مُوافق ۔

یعنی جس طرح عورتوں پر شوہروں کے حُقُوق کی ادا واجب ہے اسی طرح شوہروں پر عورتوں کے حُقُوق کی رعایت لازم ہے۔ امام ابو عبدُاللہ محمد بن احمد بن ابوبکر قُرْطُبِیْ عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی اس آیت کے تحت فرماتے ہیں:حُقُوقِ زوجیّت میں سے عورتوں کے حُقُوقمردوں پراُسی طرح واجب ہیں جس طرح مردوں کے حُقُوق

عورتوں پر واجب ہیں اِسی لئے حضرت ابنِ عباسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: بلاشُبہ میں اپنی بیوی کے لئے زینت اختیار کرتا ہوں جس طرح وہ میرے لئے بناؤ سنگھار کرتی ہے اور مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں وہ تمام حُقُوق اچھی طرح حاصل کروں جومیرے اُس پر ہیں اوروہ بھی اپنے حُقُوق حاصل کرے جو اس کے مجھ پر ہیں۔ کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:﴿وَلَـھُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْھِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ  (اور عورتوں کا بھی حق ایسا ہی ہے جیسا اُن پر ہے شرع کے مُوافق) اورآپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہی سے یہ بھی مروی ہے کہ بیویوں کے ساتھ اچھی صحبت اور بہترین سُلوک خاوندوں پر اسی طرح لازم ہے جس طرح بیویوں پر ہر اُس (جائز)کام میں خاوندوں کی اطاعت واجب ہے جس کا وہ اُنہیں حکم دیںب

بیویکے حُقُوق کی اہمیت

بہر حال شرعی اور اَخْلاقی ہر لحاظ سے بیویوں کے حُقُوق بھی بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں اور شوہر کو اُن کا خیال رکھنا چاہئے علاوہ ازیں بیوی کے جائز مُطالبات کو پورا کرنے اور جائز خواہشات پر پورا اُترنے کی بھی حتی المقدور کوشش کرنی چاہئے۔ جس طرح شوہر یہ چاہتا ہے کہ اُس کی بیوی اُس کے لئے بن سنور کررہے اِسی طرح اُسے بھی بیوی کی فطری چاہت کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے اُس کی دِلجوئی کے لئے لباس وغیرہ کی صفائی ستھرائی کی طرف خاص توجّہ دینی چاہئے خواہ وہ زبان سے اِس بات کا

اِظْہار کرے یا نہ کرے ۔

سرکارِ مدینہ، سُرورِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشاد ہے کہ تم اپنے کپڑوں کو دھوؤ اور اپنے بالوں کی اِصْلاح کر و اور مسواک کرکے زینت اور پاکی حاصل کرو کیونکہ بنی اسرائیل ان چیزوں کا اہتمام نہیں کرتے تھے اسی لئے اُن کی عورتوں نے بدکاری کی http://www.amaizy.com/zuban-muattar-hai-dil-munawwar-tabiaton-me-nikhar-aaya/